کابل پر طالبان کے کنٹرول کے 5 سال بعد بڑا سیاسی تحرک: سابق افغان جنرل سمیع سادات کا نیا محاذ قائم

"سابق افغان جنرل سمیع سادات فوجی وردی میں افغانستان کے پرچم کے ساتھ، دوسری طرف طالبان اور دیگر گروہوں کا عکس، خبر تھمب نیل"
"سقوطِ کابل کے 5 سال بعد: سابق افغان جنرل سمیع سادات کی ‘یونائیٹڈ فرنٹ’ کے ساتھ واپسی”

"افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ” (AUF) کے پلیٹ فارم سے سیاسی و عسکری اقدامات کا اعلان

پہلے مرحلے میں عسکری اہداف پر توجہ مرکوز کی جائے گی؛ اقوامِ متحدہ کے سابق عہدیدار کا TTP اور القاعدہ کے حوالے سے انکشاف

اسلام آباد (ویب ڈیسک / مانیٹرنگ ڈیسک):

افغانستان میں امریکی انخلاء اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ سال بعد ملک کی سیاسی و عسکری صورتحال میں ایک نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سابق افغان نیشنل آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات فوجی وردی اور افغان جمہوریہ کے سہ رنگی پرچم کے ساتھ منظرِ عام پر آئے ہیں اور انہوں نے "افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ” (AUF) کے بینر تلے ایک نئے سیاسی و عسکری تحرک کا اعلان کر دیا ہے۔

مرحلہ وار حکمتِ عملی اور اقدامات

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ خصوصی خطاب میں جنرل سمیع سادات نے بتایا کہ طالبان حکومت کے خلاف باضابطہ لائحہ عمل کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد افغانستان میں آئینی نظام اور جمہوری قدروں کی بحالی بتائی گئی ہے۔

  • ابتدائی مرحلہ: اس تحرک کے پہلے مرحلے میں عسکری تنصیبات، طالبان جنگجوؤں اور اہم قیادت کو ہدف بنانے کی حکمتِ عملی شامل ہے۔

  • آئندہ کا لائحہ عمل: ابتدائی اقدامات کے بعد اس کا دائرہ کار تدریجی طور پر ملک کے دیگر حصوں تک پھیلایا جائے گا۔

جنرل سادات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران عالمی برادری نے افغان عوام اور سول سوسائٹی کی اپیلوں پر مطلوبہ توجہ نہیں دی، جبکہ سیاسی مذاکرات کے نتائج نہ نکلنے کے بعد اب مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا پڑا ہے۔

"غیر ملکی افواج نہیں، صرف عالمی و سیاسی حمایت درکار ہے”

جنرل سمیع سادات نے اپنے موقف میں وضاحت کی کہ ان کا پلیٹ فارم افغانستان میں کسی غیر ملکی فوج یا غیر ملکی عسکری اڈوں کے قیام کا خواہاں نہیں ہے۔

"ہم ملک کی آزادی اور آئینی بحالی کے لیے کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ عالمی برادری سے صرف سیاسی، سفارتی اور مادی تعاون کے طالب ہیں۔ ہم بین الاقوامی قانون اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔”جنرل سمیع سادات

انہوں نے سابق افغان سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔

علاقائی سیکیورٹی اور شدت پسند تنظیموں کا جائزہ

خبر کے مطابق جاری کردہ بیانات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ موجودہ افغان انتظامیہ کے زیرِ اثر خطے میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش اور دیگر گروہوں کی فعال موجودگی دیکھی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے سابق عہدیدار ایڈمنڈ فٹن بران نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پر مختلف شدت پسند تنظیموں کی موجودگی خطے کے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان کے بقول ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کو پاکستان میں سرحد پار کارروائیوں کا موقع ملنا اور القاعدہ کے بنیادی ڈھانچے کی موجودگی علاقائی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

سابق رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش کا بیان

سابق افغان رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے ایک بین الاقوامی میڈیا انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں طالبان کی موجودہ پالیسیاں جدید تعلیم، خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں کے تناظر میں شدید تحفظات کا باعث بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ افغان عوام میں ان پالیسیوں کے خلاف مزاحمتی سوچ کو تقویت مل رہی ہے۔

تجزیاتی نقطہ نظر

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق کابل پر طالبان کے کنٹرول کو پانچ سال مکمل ہونے کے بعد "افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ” جیسے نئے دھڑوں کا سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ افغانستان میں داخلی سیاسی و عسکری مخالفت اب نئی شکلیں اختیار کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس نئے فرنٹ کی پیشرفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے افغان عوام اور عالمی برادری کی طرف سے کس حد تک پذیرائی ملتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے