ٹرمپ نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والا جواب مسترد کر دیا، پاکستان کے ذریعے تجاویز کا تبادلہ

اسلام آباد/ واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے بھیجے گئے جوابی پیغام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ‘ناقابل قبول’ قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک سہ فریقی منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے جس میں پاکستان، قطر اور دیگر عالمی قوتیں شامل ہیں۔
امریکی تجاویز اور ٹرمپ کا سخت موقف
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھجوایا تھا، جسے انہوں نے پڑھنے کے بعد مسترد کر دیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ان کی سابقہ پالیسیاں ایران کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے تھیں۔ انہوں نے اوباما دور کی پالیسیوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
کشیدگی کے خاتمے کے لیے تین مرحلہ وار منصوبہ
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خطرات کو ٹالنے کے لیے ایک جامع تین مرحلہ وار منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے:
پہلا مرحلہ: دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان۔
دوسرا مرحلہ: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کی بحالی۔
تیسرا مرحلہ: 30 روزہ مذاکراتی دور کا آغاز، جس میں سیاسی، علاقائی اور جوہری معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔
سفارتی سرگرمیاں اور شہباز شریف کا کردار
اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا ہے۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور علاقائی امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ قطری وزیراعظم نے اپنے دورہ امریکہ سے قبل شہباز شریف کو اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امیرِ قطر کے مستقبل قریب میں دورہ پاکستان کی توقع ظاہر کی ہے۔
ایرانی فوج کی تیاری
دوسری جانب ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے، جس میں دشمنوں کے خلاف سخت موقف اپنانے اور کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا فوری اور سخت جواب دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ ایرانی بحریہ نے بھی آبنائے ہرمز میں مقامی طور پر تیار کردہ چھوٹی آبدوزیں تعینات کر دی ہیں۔
