مٹی کے کھلونوں کا 300 سالہ قدیم فن ”گھگو گھوڑے“ دم توڑ گیا

قصور (بیورو رپورٹ): برصغیر پاک و ہند اور خصوصاً خطۂ پنجاب کی صدیوں پرانی لوک دستکاری کا ایک درخشاں باب ہمیشہ کے لیے بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ پنجاب بھر میں مٹی سے بنے روایتی کھلونوں بالخصوص ”گھگو گھوڑے“ بنانے کا 300 سالہ قدیم تاریخی فن اور کاروبار جدید سائنسی ترقی اور سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باعث دم توڑ گیا ہے۔ وہ گلی محلے جو کبھی ان روایتی کھلونوں کو بیچنے والوں کی مخصوص صداؤں سے گونجا کرتے تھے، اب سستے چینی برقی کھلونوں کی یلغار کے باعث اس روایتی رونق سے مکمل محروم ہو چکے ہیں۔
19ویں صدی کا عروج اور گلی محلوں کی رونق ثقافتی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو انیسویں صدی میں یہ فن اپنے عروج پر تھا۔ اس دور میں روزانہ صبح سویرے خانہ بدوش اور جھگی نشین خواتین اپنے سروں پر مٹی کے رنگ برنگے کھلونوں کی ٹوکریاں اٹھائے گلیوں کا رخ کرتی تھیں اور ”گھگو گھوڑے لے لو، بھگو گھوڑے لے لو“ کی دلکش آوازیں لگا کر بچوں کو متوجہ کرتی تھیں اور اپنا رزق کماتی تھیں۔ بیسویں صدی کے آغاز سے مٹنے والا یہ فن اب اکیسویں صدی کے اس ڈیجیٹل دور میں گلی کوچوں سے مکمل ختم ہو کر محض اتوار بازاروں، تفریحی پارکوں اور پنجاب کلچر ڈے کی نمائشوں تک محدود رہ گیا ہے۔
ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی تہذیب سے رشتہ ثقافتی ماہرین کے مطابق ”گھگو گھوڑا“ محض مٹی کا کھلونا نہیں بلکہ یہ وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب (ہڑپہ اور موہنجوداڑو) کا ایک جیتا جاگتا ثقافتی شاہکار ہے۔ ملتان، اٹک اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں کمہار اور خانہ بدوش قبائل نسل در نسل اس فن کو منتقل کرتے آ رہے تھے۔ یہ گھوڑے دریائے راوی یا چناب کی خالص چکنی مٹی سے بنائے جاتے ہیں اور ان پر دیسی و شوخ رنگوں سے خوبصورت نقش و نگار بنائے جاتے ہیں، جو دیکھنے میں انتہائی دلکش اور منفرد معلوم ہوتے ہیں۔
سیاسی و ادبی زبان میں ”گھگو گھوڑا“ (بطور استعارہ) دلچسپ بات یہ ہے کہ لفظ ”گھگو“ ایک ایسے پرندے یا آواز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بالکل مدہم یا ایک ہی سُر میں ہو۔ ادبی اور سیاسی حلقوں میں ”گھگو گھوڑا“ ایک گہرے استعارے (Metaphor) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح کسی ایسے شخص یا نظام کے لیے بولی جاتی ہے جو خود کوئی فیصلہ کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، بالکل بے حس و حرکت ہو اور جسے دوسرے لوگ اپنی مرضی اور اشاروں پر چلاتے ہوں۔
جدید مارکیٹ اور خاندانی تاجروں کا زوال قصورکے قدیم بازار میں ٹوائے شاپ کے مالک کمیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خاندان نسلوں سے کھلونوں کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ ان کے دادا اور والد کے دور میں مٹی کے ان گھگو گھوڑوں کی مانگ بہت زیادہ تھی، مگر اب جدید دور میں چین کے بنے ہوئے سستے پلاسٹک اور الیکٹرانک کھلونوں نے مارکیٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب بچے اور والدین انہیں عام استعمال کے لیے نہیں خریدتے، البتہ ثقافتی تقریبات میں لوگ انہیں ڈیکوریشن پیس کے طور پر ضرور خرید کر لے جاتے ہیں۔
ثقافتی حلقوں نے حکومتِ پنجاب اور محکمہ لوک ورثہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ہڑپہ کی تہذیب سے جڑے اس دم توڑتے فن کو بچانے کے لیے آخری کاریگروں کی مالی سرپرستی کی جائے تاکہ یہ نایاب ورثہ ہمیشہ کے لیے مٹنے سے بچ سکے۔
