لاہور کو پھر باغوں کا شہر بنانا ہوگا

A crowded Lahore city area filled with roads, buildings, people, and abundant trees showing a balance between urban development and greenery.
مصروف شہری علاقوں میں بھی زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر لاہور کو دوبارہ سرسبز اور خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔

تحریر: محمد عمران حسنی

لاہور صرف اینٹوں، پتھروں اور عمارتوں کا نام نہیں، یہ ایک احساس ہے، ایک تہذیب ہے، ایک ایسی خوشبو ہے جو صدیوں سے لوگوں کے دلوں میں بسی ہوئی ہے۔ اس شہر کی پہچان صرف اس کے تاریخی دروازے، بادشاہی عمارتیں اور زندہ دل لوگ نہیں، بلکہ اس کے باغات، درخت، ٹھنڈی چھاؤں اور سبز منظر بھی رہے ہیں۔ اسی لیے لاہور کو دنیا بھر میں محبت سے "باغوں کا شہر” کہا جاتا تھا۔

ایک وقت تھا جب لاہور کی صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے شروع ہوتی تھیں، سڑکوں کے کنارے درختوں کی قطاریں شہر کو خوبصورت بناتی تھیں اور شام کے وقت ٹھنڈی ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سا سکون پیدا کرتی تھی۔ باغ، نہریں، کھلے میدان اور سبزہ اس شہر کی روح تھے۔

لیکن وقت کے ساتھ شہر کی ضروریات بدلیں، آبادی بڑھی، تعمیرات میں اضافہ ہوا اور ترقی کی دوڑ میں ہم نے فطرت کے ساتھ اپنا تعلق کمزور کر لیا۔ بلند عمارتیں تو بن گئیں، سڑکیں وسیع ہو گئیں، مگر وہ درخت کم ہوتے گئے جو کسی بھی شہر کی اصل خوبصورتی اور زندگی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

آج لاہور کو کئی ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، آلودگی، گردوغبار، کم ہوتی سبز جگہیں اور سردیوں میں آنے والی سموگ اسی بڑے مسئلے کی مختلف شکلیں ہیں۔ سموگ یقیناً ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن اس کا مستقل حل صرف وقتی اقدامات نہیں بلکہ شہر کو دوبارہ سرسبز بنانا ہے۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہی وہ راستہ ہے جو لاہور کو صحت مند، خوبصورت اور قابلِ رہائش بنا سکتا ہے۔

درخت کسی بھی شہر کے خاموش محافظ ہوتے ہیں۔ وہ صرف ہمیں آکسیجن نہیں دیتے بلکہ درجہ حرارت کم کرتے ہیں، ہوا کو صاف کرتے ہیں، پرندوں کو پناہ دیتے ہیں، شور کو کم کرتے ہیں اور ماحول میں ایک قدرتی توازن پیدا کرتے ہیں۔ ایک درخت کئی دہائیوں تک انسانوں اور آنے والی نسلوں کی خدمت کرتا ہے، مگر افسوس کہ ہم چند منٹوں میں ایک درخت کاٹ دیتے ہیں جسے پروان چڑھنے میں برسوں لگتے ہیں۔

لاہور کو دوبارہ باغوں کا شہر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ شجرکاری کو صرف سرکاری مہم نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عوامی تحریک بنایا جائے۔ اگر ہر شہری سال میں صرف ایک درخت لگانے اور اس کی حفاظت کرنے کا عزم کر لے تو چند برسوں میں شہر کا منظر بدل سکتا ہے۔

ہمارے پاس ایسے کئی پلیٹ فارم موجود ہیں جو اس مقصد کو ایک بڑی تحریک بنا سکتے ہیں۔ مساجد، امام بارگاہیں، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور کاروباری ادارے اگر شجرکاری کو اپنی ذمہ داری کا حصہ بنا لیں تو لاکھوں درخت لگائے جا سکتے ہیں۔

مذہبی اور روحانی مراکز اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر جمعہ کے خطبات اور مذہبی اجتماعات میں ماحول کی حفاظت اور درخت لگانے کی اہمیت اجاگر کی جائے تو عوام میں اس حوالے سے ایک مثبت شعور پیدا ہو سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی درخت لگانے اور زمین کو آباد کرنے کی ترغیب دی ہے، جو ہمیں فطرت کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیتی ہے۔

اسی طرح ہمارے اسکول اور کالج اس تبدیلی کے سب سے بڑے مراکز بن سکتے ہیں۔ اگر "ایک طالب علم، ایک پودا” کی روایت شروع کی جائے اور ہر بچے کو اپنے لگائے ہوئے پودے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی جائے تو ہم صرف درخت نہیں لگائیں گے بلکہ ماحول دوست نسل بھی تیار کریں گے۔

درخت لگانے کے لیے ہمیشہ بڑے پارک یا وسیع زمین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر کا صحن، چھت، بالکونی، گلی کا کوئی مناسب حصہ یا ایک بڑا گملا بھی شروعات بن سکتا ہے۔ نیم، جامن، سکھ چین، املتاس، پیپل اور دیگر مقامی درخت لاہور کے موسم اور ماحول کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا لاہور دینا چاہتے ہیں۔ ایک ایسا شہر جہاں صرف عمارتیں ہوں، یا ایسا شہر جہاں درختوں کی چھاؤں، پرندوں کی آوازیں اور صاف ہوا بھی موجود ہو۔

لاہور نے صدیوں سے لوگوں کو اپنی محبت، ثقافت اور خوبصورتی سے نوازا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم بھی اس شہر کا حق ادا کریں۔ کسی خوشی کے موقع پر ایک درخت لگائیں، کسی عزیز کی یاد میں ایک پودا لگائیں، اپنے بچوں کے نام پر ایک درخت لگائیں اور اسے پروان چڑھتا دیکھیں۔

یاد رکھیے، ایک درخت صرف ایک پودا نہیں ہوتا، یہ آنے والے کل کی امید ہوتا ہے۔

ایک پودا آپ کے حصے کا، ایک پودا میرے حصے کا۔

آئیے مل کر لاہور کو دوبارہ وہی پہچان واپس دلائیں جس پر کبھی اسے فخر تھا۔

آئیے، لاہور کو پھر سے "باغوں کا شہر” بنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے