ویانا: کیا بلاول بھٹو کی یورپی شاہی خاندان میں منگنی ہو گئی؟ پیپلز پارٹی کی اہم وضاحت سامنے آ گئی

ویانا / لندن / کراچی — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی آسٹریا کے سابق شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے منگنی اور رواں سال کے آخر میں شادی کی خبروں نے ملکی و بین الاقوامی میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ان اطلاعات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے غلط قرار دیا ہے۔
ویانا میں ملاقاتیں اور شاہی خاندان سے نسبت کی افواہیں تفصیلات کے مطابق ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری اس وقت آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں موجود ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ بھٹو خاندان کی آسٹریا کے سابق شاہی خاندان ہاؤس آف ہیبسبرگ-لورین (House of Habsburg-Lorraine) سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز خاندان سے تین اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں، جو آسٹریائی شہنشاہ کارل اول کی نسل سے بتائے جاتے ہیں۔
خبروں کے مطابق بلاول بھٹو اور ممکنہ دلہن ایک دوسرے کو کئی سالوں سے جانتے ہیں اور ان کے مشترکہ دوست بھی ہیں۔ ویانا میں بات چیت کے بعد دونوں رہنماؤں کے برطانیہ روانہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا، جہاں خاندان کے دیگر افراد نے بھی جمع ہونا تھا۔
پیپلز پارٹی کی باضابطہ تردید ان قیاس آرائیوں کے میڈیا پر عام ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی سے متعلق گردش کرنے والی تمام خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر چلنے والی یہ اطلاعات مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں۔
ایوانِ صدر کا موقف واضح رہے کہ ایوانِ صدر نے 27 اگست کو صدر آصف علی زرداری کے نجی دورۂ بیرونِ ملک کی تصدیق کی تھی، تاہم دورے کی وجوہات کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی اور بھٹو زرداری خاندان کی جانب سے اب تک شادی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
