پاکستان میں ہر تیسرا بالغ شخص ذیابیطس کا شکار، ہولناک حقائق اور وجوہات سامنے آ گئیں

A professional news thumbnail showing a Pakistani man checking blood sugar level with a glucometer on a street setting, alongside an infographic explaining diabetes causes like unhealthy food and obesity.
پاکستان میں ذیابیطس کی بڑھتی ہوئی شرح اور اس کی بنیادی وجوہات پر ایک خصوصی رپورٹ۔

لاہور (ویب ڈیسک): پاکستان میں ذیابیطس (شوگر) کی بیماری وبا کی طرح پھیلنے لگی، حالیہ طبی رپورٹس اور ماہرینِ صحت کے مطابق ملک میں ہر تین میں سے ایک بالغ شخص اس خاموش قاتل بیماری کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ بیماری کی بنیادی وجوہات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں ذیابیطس کی شرح کے لحاظ سے سرفہرست ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جو کہ ملکی صحت کے نظام اور عوامی سکنڈے کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

ذیابیطس پھیلنے کی بنیادی وجوہات

ماہرینِ صحت نے پاکستان میں اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی چند بڑی اور اہم وجوہات کی نشاندہی کی ہے:

  • غیر متوازن طرزِ زندگی (Sedentary Lifestyle): روزمرہ کی زندگی میں جسمانی سرگرمیوں، ورزش اور پیدل چلنے کا شدید فقدان۔ گھنٹوں کمپیوٹر یا سکرین کے سامنے بیٹھ کر کام کرنا اس کی بڑی وجہ ہے۔

  • غیر صحت بخش غذا کا استعمال: فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، بیکری آئٹمز، اور زیادہ مٹھاس والے کھانوں کا بڑھتا ہوا ٹرینڈ۔ غذا میں سبزیاں اور پھل شامل نہ کرنا۔

  • موٹاپا اور وزن میں اضافہ: طرزِ زندگی میں سستی اور خراب غذا کے باعث نوجوانوں اور بالغان میں موٹاپے کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو ذیابیطس کی پہلی سیڑھی ہے۔

  • ذہنی تناؤ اور بے چینی (Stress): معاشی و معاشرتی مسائل کے باعث بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی بھی شوگر کی سطح کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • موروثی وجوہات: خاندان میں پہلے سے ذیابیطس کی موجودگی اور بروقت تشخص کا نہ ہونا۔

ماہرین کا کیا کہنا ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس صرف ایک بیماری نہیں بلکہ یہ انسانی جسم کے دیگر اعضاء جیسے کہ دل، گردے، آنکھوں اور اعصابی نظام کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ اگر اس وبا کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں ہسپتالوں پر بوجھ ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔

"ذیابیطس سے بچاؤ کا واحد حل شعور کی بیداری اور طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ سادہ غذا، روزانہ کم از کم 30 منٹ کی واک اور چینی کا کم سے کم استعمال اس مرض سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔”

بچاؤ کی تدابیر

وزارتِ صحت اور طبی تنظیموں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ درج ذیل عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں:

  1. ہر چھ ماہ بعد شوگر کا باقاعدہ ٹیسٹ کروائیں۔

  2. چائے اور دیگر مشروبات میں چینی کا استعمال انتہائی کم کریں۔

  3. فاسٹ فوڈ کی جگہ گھر کی بنی سادہ اور متوازن غذا کو ترجیح دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے