نیا پاکستان یا نئے صوبے؟ انتظامی اصلاحات کا ناگزیر سوال

تحریر: محمد عمران حسنی
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آبادی میں بے پناہ اضافہ، وسائل کی غیر مساوی تقسیم، بیوروکریسی کا پیچیدہ نظام اور اختیارات کا ارتکاز حکمرانی کو مسلسل دشوار بنا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اب صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر باشعور شہری کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ کیا 24 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کو صرف چار صوبوں کے ذریعے مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے؟
یہ بحث کسی سیاسی جماعت کے مفاد یا مخالفت کی نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق، عوامی سہولت اور پاکستان کے مستقبل کی ہے۔ دنیا بھر میں جیسے جیسے آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسے انتظامی ڈھانچے کو بھی عوام کی ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی شاید اب اسی سمت سنجیدگی سے سوچنے کا وقت آ چکا ہے۔
پنجاب: ایک صوبہ یا ایک برِاعظم؟
پنجاب کی آبادی تقریباً بارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر پنجاب ایک خودمختار ملک ہوتا تو دنیا کے بڑے آبادی والے ممالک میں شمار ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی آبادی اور وسیع جغرافیے کو ایک ہی صوبائی دارالحکومت لاہور سے مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے؟
جنوبی پنجاب کے عوام دہائیوں سے شکوہ کرتے آئے ہیں کہ انہیں بنیادی انتظامی، عدالتی اور ترقیاتی معاملات کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ رحیم یار خان، راجن پور، بہاولپور، لیہ اور ڈیرہ غازی خان جیسے اضلاع آج بھی خود کو فیصلہ سازی کے مراکز سے دور محسوس کرتے ہیں۔ یہی احساسِ محرومی وقتاً فوقتاً الگ صوبے کے مطالبے کو جنم دیتا ہے۔
سندھ: دو مختلف حقیقتیں، ایک انتظامی ڈھانچہ
سندھ کی صورتحال بھی کم پیچیدہ نہیں۔ ایک طرف کراچی ہے جو پاکستان کی معیشت کا انجن ہے، دوسری جانب اندرون سندھ کے زرعی اور دیہی علاقے ہیں جن کی ترجیحات، ضروریات اور مسائل یکسر مختلف ہیں۔
ایک ہی انتظامی نظام سے دونوں خطوں کے تقاضے پورے کرنا آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں یا کم از کم بااختیار انتظامی خطوں کے قیام کو بہتر حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہیں۔
دنیا کا تجربہ کیا کہتا ہے؟
اکثر کہا جاتا ہے کہ نئے صوبے ملک کو تقسیم کر دیں گے، مگر دنیا کی مثالیں مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
بھارت نے آزادی کے بعد انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی نئی ریاستیں قائم کیں۔ امریکہ میں پچاس ریاستیں ہیں جبکہ ترکی نے بھی وقت کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا۔ ان ممالک میں اختیارات کی تقسیم نے مقامی حکومتوں کو زیادہ فعال بنایا اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل کے قریب لایا۔
یقیناً ہر ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں، لیکن ایک اصول تقریباً ہر جگہ مشترک ہے کہ جتنی حکومت عوام کے قریب ہوگی، اتنی ہی مؤثر ہوگی۔
اصل مزاحمت کہاں سے آتی ہے؟
نئے صوبوں کی مخالفت صرف انتظامی دلائل کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں سیاسی مفادات بھی زیر بحث آتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بڑی جماعتیں، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی، نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرتی ہیں کیونکہ موجودہ صوبائی تقسیم ان کی روایتی سیاسی طاقت کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
اگر پنجاب تقسیم ہوتا ہے تو سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ سندھ میں انتظامی تبدیلیاں وہاں کی روایتی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی منشور میں جنوبی پنجاب یا انتظامی اصلاحات کا ذکر تو کیا جاتا ہے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد اس سمت پیش رفت نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتی ہے۔
نئے صوبے، نئے مواقع
اگر نئے صوبے مکمل آئینی اتفاقِ رائے، شفاف منصوبہ بندی اور مالی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیے جائیں تو اس کے متعدد فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
نئے دارالحکومت وجود میں آئیں گے، سرکاری ادارے قائم ہوں گے، روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے، ترقیاتی فنڈز نچلی سطح تک پہنچ سکیں گے، مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور عوام کو سرکاری دفاتر تک رسائی کے لیے طویل سفر نہیں کرنا پڑے گا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ علاقے جو خود کو دہائیوں سے نظرانداز محسوس کرتے ہیں، انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں زیادہ مؤثر کردار مل سکے گا۔
مگر احتیاط بھی ضروری ہے
نئے صوبے کسی لسانی، نسلی یا سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف انتظامی ضرورت، جغرافیائی حقیقت اور عوامی سہولت کی بنیاد پر قائم ہونے چاہییں۔ اگر یہ عمل سیاسی انتقام یا ووٹ بینک کی سیاست کا حصہ بن گیا تو اس کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
اسی طرح نئے صوبے بنانے سے پہلے مالی وسائل، آئینی تقاضوں، انتظامی صلاحیت اور قومی اتفاقِ رائے کو بھی یقینی بنانا ناگزیر ہوگا۔
آخری بات
پاکستان کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر ہمارا انتظامی ڈھانچہ دہائیوں پرانے سانچے میں جکڑا ہوا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جذبات سے ہٹ کر اس سوال پر سنجیدگی سے غور کریں کہ کیا موجودہ نظام آئندہ نسلوں کی ضروریات پوری کر سکے گا؟
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ بحث اس نکتے سے شروع کریں کہ پاکستان کو مزید سیاست نہیں، بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔
اگر نئے صوبے عوام کے دروازے تک اختیارات، وسائل اور انصاف پہنچا سکتے ہیں تو اس پر قومی سطح پر کھلے دل سے مکالمہ ہونا چاہیے۔ مضبوط وفاق وہ نہیں ہوتا جہاں تمام اختیارات چند بڑے شہروں میں مرتکز ہوں، بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں ریاست کا ہر شہری خود کو اقتدار اور ترقی کے عمل کا برابر کا شریک محسوس کرے۔
