12 اگست کو نایاب ترین سورج گرہن: دنیا بھر میں کروڑوں افراد فطرت کے دلفریب منظر کا نظارہ کریں گے

Total solar eclipse on 12 August showing glowing sun corona over coastal landscape
12 اگست کو رونما ہونے والا نایاب مکمل سورج گرہن، جس میں سورج کا بیرونی حصہ ”کورونا“ واضح دکھائی دے رہا ہے۔

لندن (ویب ڈیسک / نیوز ڈیسک)

دنیا بھر کے ماہرین فلکیات اور خلائی سائنس میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے رواں ماہ کا دن نہایت اہم ثابت ہونے جا رہا ہے۔ 12 اگست کو دنیا کے متعدد خطوں میں کروڑوں افراد ایک نایاب اور مکمل سورج گرہن کا براہِ راست نظارہ کر سکیں گے۔

نایاب فلکیاتی منظر اور "کورونا” کی جلوہ گری

ماہرین فلکیات کے مطابق اس بار سورج گرہن کا مکمل اور دلکش روپ گرین لینڈ، مختلف یورپی ممالک اور شمالی روس کے علاقوں میں واضح طور پر دکھائی دے گا۔ اس موقع پر چاند کچھ لمحوں کے لیے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، جس کے نتیجے میں سورج کا بیرونی و انتہائی روشن حصہ، جسے سائنس کی زبان میں ”کورونا“ (Corona) کہا جاتا ہے، واضح طور پر نمایا ہو کر ایک پراسرار اور خوبصورت منظر پیش کرے گا۔

افریقی اور عرب ممالک کی صورتحال

یہ سورج گرہن عرب ممالک میں تو نظر نہیں آ سکے گا، تاہم شمالی اور مغربی افریقہ کے مختلف علاقوں میں ایک غیر معمولی جزوی (Partial) سورج گرہن کا نظارہ ممکن ہوگا۔

  • الجزاِئر: بعض مقامات پر سورج کا تقریباً 96 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔

  • مراکش: دارالحکومت رباط میں سورج کا 88 فیصد حصہ ڈھکنے کا امکان ہے۔

  • تیونس اور موریطانیہ: ان ممالک میں گرہن کا تناسب بالترتیب 50 فیصد اور 46 فیصد تک رہے گا۔

آنکھوں کی حفاظت کے لیے طبی و سائنسی تدابیر

ماہرینِ فلکیات اور طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کے وقت اسے عام آنکھ یا بغیر کسی حفاظتی انتظام کے براہِ راست دیکھنا بینائی کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ سورج سے نکلنے والی شدید شعاعیں آنکھ کے پردے (Retina) کو مستقل نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

شائقین کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس روح پرور منظر کا نظارہ کرنے کے لیے صرف اور صرف منظور شدہ سولر ای کلیپس چشموں (ISO تصدیق شدہ) یا محفوظ مشاہداتی آلات (جیسے پنہول پروجیکٹر) کا استعمال کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے