شرمناک شکست: افغانستان کے ٹیسٹ سٹیٹس پر سوالات اٹھنے لگے

Afghanistan national cricket team players in white test uniform discussing on field during a match.
بھارتی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران افغان کھلاڑی میدان میں مشاورت کرتے ہوئے۔

کراچی (اسپورٹس ڈیسک) بھارت کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ میں شرمناک شکست کے بعد افغانستان کی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے اور ان کے ٹیسٹ اسٹیٹس پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ چنڈی گڑھ میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی ٹیم نے یکطرفہ مقابلے کے بعد افغان ٹیم کو اننگز اور 300 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی۔

مدن لال کی کڑی تنقید: "بیٹنگ معیار پر پوری نہیں اترتی”

سابق بھارتی کرکٹر مدن لال نے افغان ٹیم کی کارکردگی پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے فیصلے کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:

"افغانستان کو ٹیسٹ اسٹیٹس دینے کی منطق سمجھ سے بالکل باہر ہے۔ ان کی بیٹنگ تکنیک اور معیار ٹیسٹ کرکٹ کے مطابق نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار بڑی اور شرمناک شکستوں کا شکار ہو رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی نے افغانستان کو ٹیسٹ اسٹیٹس دینے میں جلد بازی سے کام لیا۔ ٹیسٹ کرکٹ 5 دن کا فارمیٹ ہے جس کے لیے ایک طویل المدتی اور مضبوط ڈومیسٹک نظام کی ضرورت ہوتی ہے، جو فی الحال افغان کرکٹ میں نظر نہیں آتا۔

افغان ٹیسٹ کرکٹ کا پسِ منظر اور ریکارڈ

یاد رہے کہ افغانستان کو آئی سی سی کی جانب سے سنہ 2017 میں ٹیسٹ اسٹیٹس سے نوازا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان ٹیم نے اپنا تاریخی پہلا ٹیسٹ میچ بھی بھارت ہی کے خلاف کھیلا تھا، جو انتہائی ناقص کارکردگی کے باعث دو دن سے بھی کم وقت میں ختم ہو گیا تھا۔

اگر افغانستان کے اب تک کے ٹیسٹ ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو:

  • کل کھیلے گئے میچز: 14

  • کامیابیاں: صرف 4 فتوحات

  • حریف ٹیمیں جن کے خلاف جیتے: بنگلہ دیش، زمبابوے اور آئرلینڈ

کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر افغانستان نے طویل فارمیٹ کی کرکٹ میں اپنی ساکھ بچانی ہے، تو انہیں اپنی تکنیک اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی، ورنہ مستقبل میں بڑی ٹیموں کے خلاف ان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے