ایلون مسک دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے، اثاثے 1.1 ٹریلین ڈالرز سے تجاوز کر گئے

نیوز ڈیسک (لاہور): امریکی خلائی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ (SpaceX) کے ریکارڈ 75 ارب ڈالرز کے ابتدائی حصص (IPO) کے اجراء کے بعد دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی مجموعی دولت 1.1 کھرب (ٹریلین) ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس تاریخی اضافے کے ساتھ ہی وہ دنیا کی پہلی کھرب پتی شخصیت بن گئے ہیں۔
اسپیس ایکس آئی پی او اور اثاثوں میں ریکارڈ اضافہ
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، اسپیس ایکس کے حصص کی عوامی فروخت سے قبل ایلون مسک کی کل دولت تقریباً 780 ارب ڈالرز ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم، آئی پی او کے کامیاب اجراء کے بعد خلائی کمپنی میں ایلون مسک کے حصص کی مالیت میں راتوں رات نمایاں اضافہ ہوا، جس نے ان کے مجموعی اثاثوں کو 1.1 کھرب ڈالرز کی جادوئی حد سے اوپر پہنچا دیا۔
مالیاتی دنیا میں ‘ایلون پریمیئم’ کا جادو
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلائی کمپنی کی یہ بلند ترین قدر روایتی مالیاتی پیمانوں اور کاروباری اصولوں سے ہٹ کر ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ بڑی حد تک ایلون مسک کی سحر انگیز شخصیت، ان کے مستقبل کے وژن اور انقلابی ٹیکنالوجیز پر عالمی سرمایہ کاروں کے غیرمعمولی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ مالیاتی حلقوں میں سرمایہ کاروں کے اس اندھے اعتماد کو ’ایلون پریمیئم‘ کا نام دیا گیا ہے۔
متعدد جدید ٹیکنالوجی اداروں کے بانی
54 سالہ ایلون مسک اس وقت دنیا کے متعدد جدید ترین اور انقلابی اداروں کی قیادت کر رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
ٹیسلا (Tesla): برقی گاڑیوں کی صفِ اول کی کمپنی
اسپیس ایکس (SpaceX): خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا نجی ادارہ
ایکس (سابقہ ٹویٹر): عالمی سطح کا سماجی رابطے کا پلیٹ فارم
نیورالنک اور ایکس اے آئی: مصنوعی ذہانت اور انسانی دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنے والے جدید منصوبے
تنازعات اور سائنسی خدمات کا امتزاج
اگرچہ ایلون مسک کو اپنی سیاسی سرگرمیوں، سوشل میڈیا پر متنازع بیانات اور سخت کاروباری طرزِ عمل کی وجہ سے اکثر شدید تنقید کا سامنا رہتا ہے، تاہم ان کے حامی اور سائنسی حلقے انہیں جدید دور کا ایک غیر معمولی مؤجد اور مہم جو صنعت کار قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے آٹوموبائل انڈسٹری، خلائی سفر کو سستا بنانے اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ایسے دور رس اثرات مرتب کیے ہیں جنہوں نے دنیا کا رخ بدل دیا ہے۔
