وفاقی حکومت کا نیا شراکتی پینشن سسٹم نافذ، نوٹیفکیشن جاری: ملازمین اور حکومت کا حصہ بھی طے پا گیا

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر): وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے دہائیوں سے جاری روایتی پینشن سسٹم کو ختم کرتے ہوئے نیا شراکتی (Contributory) پینشن سسٹم باقاعدہ طور پر متعارف کروا دیا ہے، جس کا رسمی نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت اب پینشن کا تمام تر بوجھ تنہا سرکاری خزانے پر نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک مشترکہ فنڈ کے ذریعے چلايا جائے گا۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق:
حکومتی حصہ: وفاقی حکومت ہر ماہ ملازم کی قابلِ پینشن تنخواہ کا 12 فیصد پینشن فنڈ میں جمع کرائے گی۔
ملازم کا حصہ: ملازم کی ماہانہ تنخواہ سے 10 فیصد کٹوتی کر کے اسی فنڈ میں شامل کی جائے گی۔
سرمایہ کاری اور منافع پر مبنی پینشن: نئے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پینشن فنڈ سسٹم کے تحت ملازم اور حکومت کی جانب سے جمع شدہ رقم کو ایک مخصوص فنڈ میں رکھا جائے گا، جسے محفوظ اور منافع بخش مختلف قومی سرمایہ کاری منصوبوں میں لگایا جائے گا۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ملازم کو ملنے والی پینشن اور دیگر مراعات کا دارومدار اسی فنڈ کے کل حجم اور اس پر حاصل ہونے والے منافع پر ہو گا۔
16 پینشن فنڈ مینیجرز کی منظوری: ‘ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پینشن فنڈ سکیم 2024ء’ کے عملی نفاذ اور شفاف طریقے سے دیکھ بھال کے لیے وفاقی حکومت نے 16 اہل پینشن فنڈ مینیجرز (PFMs) کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق منظور شدہ تمام 16 فنڈ مینیجرز نے وفاقی حکومت کے ساتھ باضابطہ معاہدے (Agreements) مکمل کر لیے ہیں، جس کے بعد وہ اس سکیم کے تحت پینشن شراکتوں کی دیکھ بھال اور نظم و ضبط سنبھالنے کے مکمل اہل ہو گئے ہیں۔
