چین اور پاکستان کے درمیان گدھا صنعت کی ترقی اور تحقیق کے لیے 10 سالہ تاریخی معاہدہ طے پا گیا

گوادر / لیاؤ چینگ: پاکستان میں جدید اور پائیدار بنیادوں پر گدھا صنعت (Donkey Industry) کی ترقی، سائنسی تحقیق اور افزائشِ نسل کے فروغ کے لیے چین اور پاکستان کے اداروں کے درمیان 10 سالہ معاشی و تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت گوادر میں ایک جدید تحقیقی مرکز اور ترقیاتی یونٹ قائم کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے (این این آئی) کی رپورٹ کے مطابق، سنیاؤ، چین کی معروف کمپنی ڈونگ ای ای جیاؤ (Dong-E E-Jiao) اور گوادر میں قائم ہان گینگ گروپ (Han Geng Group) نے چین کے صوبے شان ڈونگ کے شہر لیاؤ چینگ میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران 10 سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے کے اہم نکات اور مقاصد:
تحقیقی مرکز کا قیام: گوادر پرو کے تحت پاکستان گدھا صنعت تحقیقی مرکز اور پائیدار ترقی و بہبود کے فروغ کے لیے 10 سالہ مدت کا ایک خصوصی یونٹ قائم کیا جائے گا۔
مربوط لوکل ویلیو چین: اس منصوبے کے تحت پاکستان میں گدھوں کی اعلیٰ اور منتخب افزائشِ نسل، جدید فارم پر پرورش، کنٹریکٹ فارمنگ، جانوروں کی ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی (قابلِ سراغ نظام)، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ذبح و پروسیسنگ اور چین کو برآمدات پر مشتمل ایک مکمل اور مربوط مقامی ویلیو چین (Local Value Chain) قائم کی جائے گی۔
زرعی و لائیو اسٹاک شعبے میں تعاون: دونوں ادارے پاکستان میں اس صنعت کو سائنسی، معیاری اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے، جس سے پاک-چین زرعی و لائیو اسٹاک شعبوں میں باہمی تعاون مزید مضبوط ہو گا۔
ہان گینگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) اینڈی لیاؤ نے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری کے ذریعے چین کے سب سے بڑے سرکاری ادارے اور فارچیون گلوبل 500 میں شامل ‘چائنا ریسورسز گروپ’ کے وسیع صنعتی وسائل اور تحقیقی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ڈونگ ای ای جیاؤ کو روایتی چینی طب (TCM) کے شعبے میں تحقیق و ترقی، معیار کے تعین، برانڈ ڈیولپمنٹ اور گدھا صنعت سے متعلق تکنیکی تحقیق میں وسیع عالمی مہارت حاصل ہے، جس کے فائدے سے پاکستانی لائیو اسٹاک سیکٹر مستفید ہو سکے گا۔
