پنجاب بلدیاتی نظام میں انقلابی تبدیلیاں: کونسلرز کو مالی و انتظامی اختیارات دینے کا فیصلہ

Modern Pakistani local government union council building and developed infrastructure depicting Punjab Local Government Act 2025 reforms.
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت صوبے بھر میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کروانے کا فیصلہ، یونین کونسلز اور کونسلرز کو بے مثال مالی و انتظامی اختیارات ملیں گے۔

لاہور پنجاب اسمبلی (نیوز ڈیسک)

پنجاب میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مؤثر اور بااختیار بنانے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کا تفصیلی مسودہ حتمی شکل دے دیا ہے۔ اس نئی قانون سازی کا بنیادی مقصد اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور یونین کونسلز سمیت تمام بلدیاتی اداروں کو ایسے وسیع اختیارات سے آراستہ کرنا ہے جن کی مثال ماضی میں شاید ہی ملتی ہو۔ مجوزہ مسودے کے مطابق مقامی نمائندوں کو نہ صرف انتظامی معاملات میں خودمختاری دی جائے گی بلکہ مالیاتی امور میں بھی ان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔

نئے قانون کے تحت صوبے بھر میں بلدیاتی نظام کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں ٹاؤن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی، تحصیل کونسل اور یونین کونسل شامل ہیں۔ ہر یونین کونسل کل 13 ارکان پر مشتمل ہوگی، جس میں 9 نشستیں عام انتخاب کے ذریعے پُر کی جائیں گی جبکہ باقی 4 نشستیں مخصوص طبقات کے لیے مختص ہوں گی۔ ان مخصوص نشستوں میں ایک خاتون، ایک کسان یا مزدور نمائندہ، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم اقلیتی رکن شامل ہوں گے، تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو بلدیاتی فیصلہ سازی میں نمائندگی مل سکے۔

انتخابی طریقہ کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عام کونسلرز کا چناؤ راست اور خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا، جبکہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کونسل کے منتخب اراکین آپس میں دست شناسی کے ذریعے مشترکہ امیدوار کی صورت میں کریں گے۔

مسودے میں انتخاب لڑنے والوں کے لیے واضح ضابطے مرتب کیے گئے ہیں۔ عام کونسلر بننے کے خواہش مند شخص کی عمر کم از کم 21 سال اور نام ووٹر لسٹ میں درج ہونا لازمی ہوگا۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدے کے لیے کم از کم عمر کی حد 25 سال رکھی گئی ہے، جبکہ نوجوانوں کی مخصوص نشست کے لیے عمر کا دائرہ 18 سے 32 سال تک متعین کیا گیا ہے۔

اسی طرح نااہلی کے حوالے سے بھی سخت شقیں شامل کی گئی ہیں۔ کرپشن یا اخلاقی جرائم میں سزا یافتہ افراد، سرکاری ملازمت میں موجود شخصیات، بجلی، گیس، پانی یا بینک واجبات کے نادہندگان، غلط بیانی سے کام لینے والے اور بیک وقت دو سیاسی عہدوں پر فائز رہنے کی کوشش کرنے والے افراد کو انتخاب لڑنے کا اہل قرار نہیں دیا جائے گا۔

نئے قانون کا سب سے نمایاں پہلو یونین کونسلز کو دی جانے والی مالیاتی خودمختاری ہے۔ ہر یونین کونسل اپنا سالانہ بجٹ خود تیار اور منظور کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ٹیکس، فیسیں اور جرمانے وصول کرنے کا اختیار رکھے گی۔ اس کے علاوہ پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کی سرکاری رجسٹریشن، گلی محلوں اور نالیوں کی دیکھ بھال، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صفائی کے انتظامات اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری بھی یونین کونسل ہی کی ذمہ داری ہوگی۔

بڑی بلدیاتی حکومتوں یعنی میونسپل اور ٹاؤن کارپوریشنز کو مزید وسیع اختیارات دیے جائیں گے، جن میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی، پارکوں اور قبرستانوں کی دیکھ بھال، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظام، ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قواعد و ضوابط اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت شامل ہیں۔

عدالتی نظام پر بوجھ کم کرنے اور مقامی سطح پر ہی جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے ہر یونین کونسل میں 5 سے 9 ارکان پر مشتمل ایک مصالحتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ فریقین کی باہمی رضامندی سے یہ کمیٹی خاندانی، دیوانی اور معمولی نوعیت کے فوجداری تنازعات میں مصالحت کرانے کی مجاز ہوگی، جس سے نہ صرف عوام کو سستا اور فوری انصاف میسر آئے گا بلکہ عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد میں بھی کمی متوقع ہے۔

مجوزہ ایکٹ کے مطابق ہر بلدیاتی حکومت کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔ مدت کی تکمیل کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان 120 دن کے اندر نئے انتخابات کے انعقاد کا پابند ہوگا، تاکہ بلدیاتی نظام میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور فلور کراسنگ جیسے رجحان کی روک تھام کے لیے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے کونسلرز کے خلاف نااہلی کی شقیں بھی مسودے کا حصہ بنائی گئی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مسودہ اسی شکل میں قانون کا درجہ اختیار کر لیتا ہے تو یہ پنجاب کی بلدیاتی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مخصوص نشستوں کے ذریعے پسماندہ طبقات کی نمائندگی اور مالیاتی خودمختاری جیسے اقدامات مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں فعال بنا سکتے ہیں۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عملدرآمد کے دوران بیوروکریٹک رکاوٹیں کس حد تک دور کی جاتی ہیں اور صوبائی حکومت مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کس طرح یقینی بناتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے